جے پور،15 /جولائی (آئی این ایس انڈیا) راجستھان میں کانگریس کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے۔ سچن پائلٹ کے بغاوت کے بعد وزیر اعلی اشوک گہلوت حکومت اب بھی اپنی حکومت کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس دوران ریاست میں بہوجن سماج پارٹی کی جانب سے کانگریس کوعدالت میں گھسیٹنے کی خبر ہے بی ایس پی کے چھ ممبران اسمبلی کے کانگریس میں شامل ہونے کے معاملے میں پارٹی کانگریس کو عدالت میں چیلنج پیش کرسکتی ہے۔ بدھ کی شام تک اس سلسلے میں فیصلہ متوقع ہے۔اس سلسلے میں بی جے پی نے راجیہ سبھا انتخابات کے وقت الیکشن کمیشن کو جانکاری دی تھی تھا۔ پارٹی نے ارکان اسمبلی سے پارٹی کے وہپ کے مطابق ووٹ ڈالنے کا حکم دینے کو کہا تھا۔ الیکشن کمیشن نے کیس میں مداخلت سے انکار کردیا۔ فی الحال بی ایس پی کا مؤقف ہے کہ اسپیکر اسمبلی کو ان اراکین اسمبلی کی حیثیت کا فیصلہ کرنے سے پہلے پارٹی سے بات کرنی چاہئے۔دراصل بی ایس پی کے چھ ممبران اسمبلی راجستھان میں کانگریس حکومت کی حمایت کر رہے تھے۔ لیکن ستمبر 2019 میں اشوک گہلوت نے کانگریس میں ان ایم ایل اے کو شامل کیا۔ اس کے بعد جنوری کے آغاز میں ان ارکان اسمبلی نے سونیا گاندھی کے ساتھ مل کر پارٹی کی باضابطہ رکنیت حاصل کی۔ بی ایس پی نے کانگریس کے اس اقدام پر تنقید کی تھی اور پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے اشوک گہلوت سے استعفیٰ بھی طلب کیا تھا۔پارٹی اس معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن پہنچی تھی، لیکن الیکشن کمیشن نے اس معاملے میں مداخلت سے انکار کردیا۔ اب بی ایس پی اس مسئلے کو عدالت میں لے جانا چاہتی ہے۔